Wednesday, November 4, 2020

لوگوں نے پوچھا کہ کیا ہم نے نیچے کپڑے پہن رکھے ہیں







 ایک نوجوان انڈین جوڑے، جس کی شادی کے بعد کا فوٹو شوٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا اور ان پر سخت الفاظ میں تنقید کی گئی، نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ان تصاویر کو نہیں ہٹائیں گے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ غنڈہ گردی کرنے والوں کی بات مان رہے ہیں۔


تصویروں میں لکشمی اور ہروشی کارتک کو سفید لحاف لپیٹے، چائے کے سرسبز باغات میں ہنستے، گلے ملتے اور ایک دوسرے کا پیچھا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ستمبر میں ایک چھوٹی سی تقریب میں ان کی شادی ہوئی تھی، جوڑے کہنا ہے کہ انھوں نے شادی کے بعد ایک فوٹو شوٹ رکھنے کا فیصلہ کیا جو شادی کی ادھوری تقریب کی کمی پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ’یادگار‘ بھی ہوگا۔

اپنے ارمان پورے کرنے کے لیے اس جوڑے نے ایک ’یادگار‘ فوٹو شاٹ کروانے کا فیصلہ کیا۔ کیرالہ اور انڈیا کے بہت سے دوسرے حصوں میں، بہت سے جوڑے دنیا کے لیے اپنی شادی کا اعلان روایتی فوٹو شوٹ کی جگہ تفصیلی فوٹو شوٹ سے کر رہے ہیں۔

ن کے فوٹوگرافر دوست اخیل کارتکیان، جنھوں نے یہ تصاویر لیں، نے مجھے بتایا کہ ہروشی کے تصوراتی فوٹو شوٹ کو ممکن بنانے میں صرف چند گھنٹے لگے ہیں۔ انھوں نے سرسبز چائے کے باغات میں جوڑے کے ہوٹل کے کمرے سے لحاف ادھار لیے اور چائے کیے باغات نے پس منظرکا کام کیا۔


لکشمی کا کہنا ہے کہ ’ہم بہت لطف اندوز ہوئے۔ پورا وقت ہم ہنس رہے تھے۔ ہم بہت پرجوش تھے۔ یہ ہمارے ہنی مون کا ایک حصہ تھا ، ہماری تازہ تازہ شادی ہوئی تھی اور ہم آزاد محسوس کر رہے تھے۔‘


انھوں نے مزید کہا کہ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ ان کے لیے اتنے مسائل پیدا کردے گا۔

پریشانی صرف دو دن بعد شروع ہوئی جب اخیل نے فیس بک پر تصاویر اپ لوڈ کیں۔ ٹرولز نے ان تصاویر کو بدصورت، فحش اور شرمناک قرار دیا۔ کچھ نے کہا کہ وہ فحش اور کنڈوم کمرشل کے لیے فٹ تھے۔ کچھ نے انھیں کمرہ لینے کا مشورہ دیا۔ لکشمی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں دو دن تک صرف سخت نفرت کا سامنا رہا۔ ’لوگوں نے کہا کہ ہم عریانی دکھا رہے ہیں، انھوں نے پوچھا کہ کیا ہم نے نیچے کپڑے پہن رکھے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ کام توجہ حاصل کرنے اور تشہیر کے لیے کر رہے ہیں۔‘


لکشمی کا کہنا ہے کہ ان پر زیادہ تنقید کی گئی۔ وہ کہتی ہیں ’میرے لیے یہ بہت خوفناک تجربہ تھا۔ وہ مجھے ہروشی سے کہیں زیادہ ہراساں کررہے تھے۔ وہ مجھے پورن فلموں میں اداکاری کرنے کے لیے کہہ رہے تھے، میرے جسم پر تنقید کی گئی۔‘


’ان ٹرولز میں بہت ساری خواتین بھی شامل تھیں۔ انھوں نے میری وہ سابقہ ​​تصاویر ڈھونڈ نکالیں جن میں، میں نے میک اپ نہیں کیا تھا اور یہ کہتے ہوئے موازنہ کرنا شروع کر دیا، کہ میں ان تصاویر میں کتنی بدصورت نظر آتی ہوں۔‘


لیکن کچھ دن بعد کئی لوگوں نے ان ٹرولز کو آڑے ہاتھوں لینے کے ساتھ ساتھ جوڑے کے لیے حمایت کا اظہار کرنا بھی شروع کردیا۔ بہت سے لوگوں نے ان تصاویر کو حیرت انگیز اور خوبصورت قرار دیا اور جوڑے کو تنقیدی تبصروں کو نظرانداز کرنے کا مشورہ دیا۔ ایک عورت نے کہا کہ انھیں وہ وقت یاد ہے جب ایک شادی شدہ جوڑے کو ہاتھ تھامتے ہوئے شرم آتی تھی اور جوڑے کو مشورہ دیا تھا کہ وہ تنقید کرنے والوں کو نظر انداز کریں اور خوش رہیں۔ لکشمی کہتی ہیں ’ہمیں معلوم نہیں ہم پر تنقید کرنے والے کون لوگ تھے۔ ہم ان لوگوں کو بھی نہیں جانتے تھے جو ہماری حمایت میں تقریر کررہے تھے، لیکن اس 

سے ہمیں بہت خوشی ہوئی۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home