Tuesday, November 3, 2020

کراچی کے بعد کیپٹن صفدر کے ایک اور وارنٹ گرفتاری جاری



 مزار قائد کی توہین پرکراچی میں گرفتاراور بعد ازاں رہا ہونے والے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اعوان کے ایک اور وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے

تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ کی طرف سے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری مریم نواز کی پیشی کے موقع پر پولیس کے ساتھ لڑائی جھگڑے اور سرکاری امور میں مداخلت کی وجہ سے جاری کیے گئے، سابق وزیراعظم نوازشریف کے داماد کے ساتھ ساتھ جہانزیب اعوان کے وارنٹ گارفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں، عدالت نے ملزمان کونوٹس جاری کرتے ہوئے 5دسمبر کو دوبارہ بھی طلب کیا ہے۔

یاد رہے کہ کراچی میں مزار قائد کے تقدس کو پامال کرنے کے کیس میں مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن ر صفدر کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جب کہ اس دوران آئی جی سندھ مشتاق مہر کے مبینہ اغواء کی خبریں بھی زیر گردش رہیں ، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کا ملبہ وفاقی حکومت پر ڈال دیا، اور دعویٰ کیا کہ محمد صفدر کی گرفتاری میں ایک وفاقی وزیر ملوث ہے،مقدمے کے لیے پولیس پر دباؤ ڈالا گیا ، تحریک انصاف کے 2 ایم پی ایز ایف آئی آر کے لیے تھانے آئے ، ایک وفاقی وزیر نے ایف آئی آر کے لیے الٹی میٹم بھی دیا ، ایم پی ایز کو سمجھایا گیا کہ ایسے مقدمہ نہیں ہوتا، مزار قائد سے متعلق درخوست پولیس کے پاس نہیں مجسٹریٹ کے پاس درج کی جاتی ہے، تاہم پی ٹی آئی نے وفاص نامی شخص سے درخواست دلوائی گئی کہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی،وقاص وہاں کس مقصد سے کیا گیا؟ کیا وہ پلاننگ کر کے گیا تھا وہاں؟ ندیم چانڈیو ، وقاص اور بگٹی نے اس حوالے سے ایک میٹنگ بھی کی ،کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت ہو گئی جس سے ظاہر ہو گیا کہ یہ ایک جھوٹا کیس تھا ،اب انکوائری ہو گی ایسے نہیں چھوڑیں گے، یہ لوگ سازش میں شامل ہیں،ان کے خلاف مکمل کاروائی کی جائے گی۔

جس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا کہ کراچی میں کیپٹن ر صفدر گرفتاری کا ڈراپ سین ہوگیا ،انہوں نے کہا کہ صاف ظاہر ہو گیا کہ یہ گرفتاری سندھ حکومت کی طرف سے کروائی گئی ، اب اس کا مقصد مریم کو سیاسی فائدہ پہنچانا تھا یا پی ڈی ایم نامی گروہ کا خاتمہ، اس سوال کا جواب تو وزیراعلیٰ سندھ کے پاس ہونا تھا لیکن وہ جواب دیے بغیر ہی بھاگ گئے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home